آن لائن مشاعرے: روایت، پرفارمنس اور ڈیجیٹل عہد میں ادبی تشکیل (A Critical Study of Online Mushaira as Digital Performance Literature)
Abstract
اردو ادب میں مشاعرہ صدیوں سے ایک زندہ، متحرک اور ہمہ جہتی ادبی روایت کے طور پر موجود رہا ہے، جس نے سماجی، ادبی اور تہذیبی سطح پر اپنی اہمیت قائم رکھی ہے۔ اس روایت پر متعدد کتابیں اور رسائل میں تحریریں آئی ہیں، جن میں بندروں کا مشاعرہ، برزخ کا مشاعرہ، خراٹوں کا مشاعرہ، مشاعرۂ زندہ دلان، انٹرنیشنل مشاعرہ، تصویری مشاعرہ، کل ہند مزاحیہ مشاعرہ، چوتھا کل ہند مشاعرہ، آل انڈیا مشاعرہ، مشاعرۂ جشنِ جمہوریت، دلی کا ایک یادگار مشاعرہ، عظیم آباد کا ایک یادگار مشاعرہ، لکھنؤ کی آخری شمع اور اردو کا پہلا مشاعرہ جیسی تصانیف قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ سیکڑوں مضامین مختلف رسائل، جرائد اور کتابوں میں بھی مشاعروں پر تنقید، تحقیق اور تنقیص کی گئی ہے، جس میں مشاعروں کی نوعیت، ان کے منتظم، روح رواں، سرپرستوں کا کردار، کھانے پینے کے انتظامات، چودھری اور طاقتور لوگوں کا اثر، اچھے شاعروں کی بےقدری اور مغنی و گویوں کی چمک و شہرت جیسے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ بعض تصانیف میں مشاعروں کی خاکہ کشی بھی کی گئی ہے، یعنی محفل، شاعر، سامع، داد و تحسین اور اسٹیج
Downloads
References
1. Bakhtin, Mikhail. Speech Genres and Other Late Essays. Translated by Vern W. McGee. Edited by Caryl Emerson and Michael olquist. Austin: University of Texas Press, 1979.
2. Bourdieu, Pierre. Cultural Reproduction and Social Reproduction. Edited and introduced by Richard Brown. London: Tavistock Publications, 1973.
3. McLuhan, Marshall. Understanding Media: The Extensions of Man. New York: McGraw-Hill, 1964.
4. Ong, Walter J. Orality and Literacy: The Technologizing of the Word. London: Methuen, 1982.
5. Schechner, Richard. Performance Theory. New York: Routledge, 1988.
6. Hayles, N. Katherine. Electronic Literature: New Horizons for the Literary. Bloomington: Indiana University Press, 2008.
1. زیدی، علی جواد۔تاریخِ مشاعرہ۔، 1992۔
2. بیگ، مرزا فرحت اللہ۔دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ۔، 1968۔
3. خورشیدی، محمد یوسف۔ عظیم آباد کا ایک یادگار مشاعرہ ، 1977۔
4. مارہروی، احسن۔ آل انڈیا مشاعرہ 1928۔
